تعارفتحریریںسوال و جوابویڈیوزآراءرابطہ

نافرمانی کے کانٹوں سے زخمی دل و روح پر توبہ کا مرہم

نافرمانی کے کانٹوں سے زخمی دل و روح پر توبہ کا مرہم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

چند دن پہلے فجر کے بعد واک کے دوران میرا جوتا پاؤں میں چھبنے لگا۔ اسے اتار کر قریب پڑے امی کے شوز پہن لیے۔ خیال تھا کہ شاید ان میں آسانی رہے گی، لیکن پوری واک کے دوران وہ بھی پاؤں میں تکلیف دیتے رہے۔ میں نے توجہ نہ دی اور چلتی رہی۔۔۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں پاؤں زخمی کروا کے بیٹھ گئی۔۔۔

سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی کے لیے جو حدود مقرر فرمائی ہیں، درحقیقت وہی ہماری حفاظت کا حصار ہیں۔ جو چیز رب العزت نے ہمارے لیے بنائی ہی نہیں اور ہمیں اس سے متنبہ بھی کردیا ، اس میں انوالو ہونا ہمارے لیے کیسے اچھا ہوسکتا ہے بھلا ؟
کبھی کبھی ان حدود کے اندر رہنا نفس پر بھاری محسوس ہوتا ہے، اور انسان کو لگتا ہے کہ شاید ان سے باہر نکلنے میں زیادہ آزادی، زیادہ خوشی یا زیادہ آسانی ہے۔

لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے باہر قدم رکھتا ہے تو بظاہر چند لمحوں کی خواہش پوری ہو جاتی ہے، رب العالمین کی نافرمانی کے دوران چھبن بھی ہوتی ہے لیکن مسلسل اگنور کرنے سے یہ چھبن دل، روح اور ایمان پر ایسے زخموں میں بدل جاتی ہے جنہیں بھرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے۔

اسی لیے ربِ کریم نے جن چیزوں سے روکا ہے، ان میں بھی ہماری بھلائی اور حفاظت رکھی ہے، اور جن چیزوں کا حکم دیا ہے، ان میں بھی ہماری سعادت اور کامیابی پوشیدہ ہے۔

یاد رکھیے، جو بکری اپنے چرواہے کی نگرانی اور اپنے ریوڑ کی حفاظت چھوڑ کر دوسری چراگاہوں کی طرف نکل جاتی ہے، وہ بھیڑیوں کا آسان شکار بن جاتی ہے۔

بالکل اسی طرح بندہ جب اپنے رب کی ہدایت اور اس کی مقرر کردہ حدود سے دور ہو جاتا ہے تو فتنوں، خواہشات اور شیطان کے حملوں کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔

لیکن اگر کبھی کمزوری، غفلت یا نفس کے بہکاوے میں آ کر ہم حدودِ الٰہی سے تجاوز کر بھی بیٹھیں، تو مایوس نہیں ہونا۔ ہمارے رب کی رحمت ہمارے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے، اور توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔

اگر نافرمانی کے کانٹوں سے دل و روح کو زخمی کر بیٹھیں، *تو اپنے گناہوں پر توبہ کا مرہم رکھ لیجیے۔* سچے دل سے اپنے رب کی طرف پلٹ آئیے، کیونکہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرنے والا، نہایت مہربان اور بخشنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے:

﴿قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾

"کہہ دیجیے: اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے! اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ بے شک اللہ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔" (الزمر: 53)

پس سلامتی اللہ تعالیٰ کی حدود میں ہے، اور اگر کبھی ٹھوکر لگ جائے تو نجات سچی توبہ، ندامت اور اپنے رب کی طرف رجوع میں ہے۔ 🤍

وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهُ
"اور جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے تو یقیناً وہ اپنے ہی نفس پر ظلم کرتا ہے۔" (الطلاق: 1)

اللهم آتِ نفسي تقواها، وزكِّها أنت خيرُ من زكَّاها، أنت وليُّها ومولاها.
اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاکیزہ بنا دے۔ تو ہی اسے سب سے بہتر پاکیزہ بنانے والا ہے، تو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔ آمین 🤲🏻

* آمنہ چاہل

اصل تحریر بلاگ پر پڑھیں تمام تحریریں

مزید تحریریں

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے تو پورا معاشرہ غم و غصے میں ڈوب جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مذمت کے پیغامات، مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے مطالبات اور چند روز تک جاری رہنے والی بحثیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مجرم کو سزا دینا ہی کافی ہے؟

مضمون پڑھیں

کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟ کل ایک گفتگو کے دوران امی سے بات ہو رہی تھی کہ والد یا بھائیوں پر بیٹی کے جہیز کا بوجھ شریعت نے نہیں رکھا تو یہ ہونا بھی نہیں چاہیے ۔ خیر، ایک طویل بحث کے اختتام

مضمون پڑھیں
میں آزاد ہوں

میں آزاد ہوں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج آزادی کے نام پر بہت سے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔۔۔ کسی کے نزدیک آزادی ہر حد کو توڑ دینے کا نام ہے۔۔۔ تو کسی کے نزدیک خواہشات کی بے لگام پیروی کا۔۔۔ اور کسی کے نزدیک ہر بندھن سے بے نیاز ہو جانے کا۔۔۔ مگر میں نے آزادی کو ایک

مضمون پڑھیں