تعارفتحریریںسوال و جوابویڈیوزآراءرابطہ

کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟

کل ایک گفتگو کے دوران امی سے بات ہو رہی تھی کہ والد یا بھائیوں پر بیٹی کے جہیز کا بوجھ شریعت نے نہیں رکھا تو یہ ہونا بھی نہیں چاہیے ۔ خیر، ایک طویل بحث کے اختتام پر امی نے کہا:

"جہیز نہ بھی لیا جائے تو کیا ہوا، بیٹیاں تو ساری زندگی لیتی ہی رہتی ہیں۔ مختلف مواقع پر کچھ نہ کچھ تو دیا ہی جاتا رہتا ہے۔"

لیکن اس جملے سے بھی مجھے اتفاق نہ ہو سکا۔

میں سوچنے لگی کہ آخر کیوں بیٹیاں ساری زندگی لینے والی ہی سمجھی جائیں؟

شادی سے پہلے تو بات سمجھ میں آتی ہے کہ وہ والد اور بھائیوں کی کفالت میں تھیں، لہٰذا وہ اپنی استطاعت کے مطابق ان پر خرچ کرتے رہے۔ لیکن نکاح کے بعد جب شریعت نے عورت کی کفالت کی ذمہ داری شوہر کے سپرد کر دی، تو پھر یہ تصور کہ بیٹی ہمیشہ لینے والی ہی رہے، میری سمجھ سے بالاتر ہے۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ شادی سے پہلے ایک لڑکی کی ذمہ داری تھی، اور شادی کے بعد بسا اوقات اس کے بچوں تک کی ضروریات اور مختلف مواقع پر ہونے والے اخراجات بھی بھائیوں کے ذمے سمجھے جانے لگتے ہیں۔

ایسی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں کہ ایک شخص بڑی مشکل سے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پوری کر رہا ہوتا ہے، لیکن معاشرتی رسوم اور توقعات کے باعث بہنوں اور ان کے خاندانوں کے لیے مہنگے کپڑے، زیورات اور تحائف دینا بھی گویا اس پر لازم سمجھا جاتا ہے۔ یوں وہ حق، جو اس کی اپنی بیوی اور بچوں کا تھا، معاشرے کی ان غیر ضروری توقعات کی نذر ہو جاتا ہے۔

حالانکہ شریعت نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ یہ بوجھ دراصل رسوم و رواج اور اندھی تقلید نے پیدا کیا ہے۔

البتہ اس سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ اگر کسی بہن کو واقعی ضرورت پیش آجائے، یا وہ تنگ دستی، بیوگی، بیماری یا کسی اور مجبوری کا شکار ہو، تو بھائی اس سے بے نیاز ہو جائیں۔ ایسے مواقع پر اس کی مدد کرنا صلہ رحمی، احسان اور ایک عظیم نیکی ہے، بلکہ بعض حالات میں ضرورت کے مطابق یہ ذمہ داری کا درجہ بھی اختیار کر سکتی ہے۔ گفتگو ان غیر ضروری معاشرتی توقعات اور رسوم کے بارے میں ہے جنہیں شریعت نے لازم قرار نہیں دیا، مگر لوگوں نے انہیں فرض کا درجہ دے رکھا ہے۔

رشتوں میں محبت، تعاون اور تحائف اپنی جگہ ایک خوبصورت چیز ہیں۔ بھائی اپنی بہنوں سے محبت کریں، ان کی مدد کریں اور خوشیوں میں شریک ہوں، اس میں کوئی قباحت نہیں۔ لیکن محبت کو فرض اور احسان کو لازم سمجھ لینا وہ چیز ہے جو بوجھ اور ناانصافی کو جنم دیتی ہے۔

میرے خیال میں بیٹیوں کو وقار، خودداری اور قناعت کی تعلیم دی جانی چاہیے، تاکہ وہ محبت کو حق اور تحفے کو فرض سمجھنے کے بجائے اللہ تعالیٰ سے امید وابستہ رکھنا سیکھیں۔ اسی طرح بیٹوں کو بھی یہ سکھایا جانا چاہیے کہ وہ محبت اور صلہ رحمی ضرور کریں، لیکن ایسی معاشرتی توقعات کے بوجھ تلے نہ دبیں جن کی شریعت نے ان پر ذمہ داری نہیں رکھی۔

محبت جب اپنی خوشی سے ہو تو باعثِ برکت بنتی ہے، لیکن جب اسے رسم اور معاشرتی دباؤ کی صورت دے دی جائے تو وہ بوجھ بن جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فہم و عمل کی توفیق سے نوازے۔ آمین!

وبالله تعالى التوفيق

والسلام

آمنہ چاہل

اصل تحریر بلاگ پر پڑھیں تمام تحریریں

مزید تحریریں

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے تو پورا معاشرہ غم و غصے میں ڈوب جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مذمت کے پیغامات، مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے مطالبات اور چند روز تک جاری رہنے والی بحثیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مجرم کو سزا دینا ہی کافی ہے؟

مضمون پڑھیں
میں آزاد ہوں

میں آزاد ہوں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج آزادی کے نام پر بہت سے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔۔۔ کسی کے نزدیک آزادی ہر حد کو توڑ دینے کا نام ہے۔۔۔ تو کسی کے نزدیک خواہشات کی بے لگام پیروی کا۔۔۔ اور کسی کے نزدیک ہر بندھن سے بے نیاز ہو جانے کا۔۔۔ مگر میں نے آزادی کو ایک

مضمون پڑھیں
بحث مباحثہ عقیدہ کی خرابی کا راستہ

بحث مباحثہ عقیدہ کی خرابی کا راستہ

بسم الله الرحمن الرحيم اگر آپ کے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کے عقائد میں انحراف ہو اور وہ آپ کو بحث و مباحثہ میں الجھانے کی کوشش کرے، تو بہت احتیاط کیجیے اور بلا ضرورت اس قسم کی گفتگو میں نہ پڑیے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سامنے والے

مضمون پڑھیں