بحث مباحثہ عقیدہ کی خرابی کا راستہ

بسم الله الرحمن الرحيم
اگر آپ کے پاس کوئی ایسا شخص آئے جس کے عقائد میں انحراف ہو اور وہ آپ کو بحث و مباحثہ میں الجھانے کی کوشش کرے، تو بہت احتیاط کیجیے اور بلا ضرورت اس قسم کی گفتگو میں نہ پڑیے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ سامنے والے کو قائل کر لے گا، لیکن عموماً نتیجہ اس کے برعکس نکلتا ہے۔ سامنے والا تو اپنی جگہ قائم رہتا ہے، جبکہ غیر محسوس انداز میں شکوک و شبہات سننے والے کے دل و دماغ میں منتقل ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اہلِ علم ہمیشہ عقیدے کے باب میں غیر ضروری مناظروں سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں۔
ہمارے اسلاف اہلِ بدعت اور گمراہ کن مجالس سے دور رہتے تھے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے جب ایک شخص نے اللہ تعالیٰ کے عرش پر استواء کے بارے میں کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا:
"الاستواء معلوم، والكيف مجهول، والإيمان به واجب، والسؤال عنه بدعة"
یعنی استواء کا ثبوت قرآن و سنت سے معلوم ہے، اس کی کیفیت ہمارے لیے مجہول ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور اس کی کیفیت کے متعلق ایسی بحث چھیڑنا بدعت ہے۔
پھر امام مالک رحمہ اللہ نے اس شخص کو اپنی مجلس سے نکل جانے کا حکم دیا۔
پس میری بہنو! اگر آپ کے پاس ایسے افراد آئیں جن کے عقائد میں انحراف ہو، تو ان کی رہنمائی راسخ العقیدہ اور معتبر اہلِ علم کی طرف کر دیجیے۔ ہر شخص کا کام مناظرہ کرنا نہیں ہوتا۔ جب تک علم میں پختگی، بصیرت اور علمی بنیادیں مضبوط نہ ہوں، ایسی مباحث بعض اوقات فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن جاتی ہیں۔
ہمیں علم حاصل کرنا ہے، حق کو پہچاننا ہے، اور اہلِ علم سے وابستہ رہنا ہے؛ نہ کہ ہر آنے والے اعتراض اور شبہے کا خود جواب دینے کی کوشش میں اپنے دل کو فتنوں کے سامنے رکھ دینا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت اور فہمِ سلف صالحین کے مطابق صحیح، خالص اور مضبوط عقیدہ نصیب فرمائے، اور مرتے دم تک اس پر ثابت قدم رکھے۔ آمین۔
آمنہ چاہل
مزید تحریریں
بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے تو پورا معاشرہ غم و غصے میں ڈوب جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مذمت کے پیغامات، مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے مطالبات اور چند روز تک جاری رہنے والی بحثیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مجرم کو سزا دینا ہی کافی ہے؟
مضمون پڑھیں →کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟ کل ایک گفتگو کے دوران امی سے بات ہو رہی تھی کہ والد یا بھائیوں پر بیٹی کے جہیز کا بوجھ شریعت نے نہیں رکھا تو یہ ہونا بھی نہیں چاہیے ۔ خیر، ایک طویل بحث کے اختتام
مضمون پڑھیں →
میں آزاد ہوں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج آزادی کے نام پر بہت سے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔۔۔ کسی کے نزدیک آزادی ہر حد کو توڑ دینے کا نام ہے۔۔۔ تو کسی کے نزدیک خواہشات کی بے لگام پیروی کا۔۔۔ اور کسی کے نزدیک ہر بندھن سے بے نیاز ہو جانے کا۔۔۔ مگر میں نے آزادی کو ایک
مضمون پڑھیں →