تعارفتحریریںسوال و جوابویڈیوزآراءرابطہ

میں أمةُ الله ہوں | الله تعالیٰ کی بندی

میں أمةُ الله ہوں | الله تعالیٰ کی بندی

میں أمةُ الله ہوں۔۔۔

اللہ تعالیٰ کی بندی، اس کی بندگی اور اطاعت میں ہر دم کوشاں۔۔۔

میرے پیدا کرنے والے اور مجھے تخلیق فرمانے والے سے بڑھ کر کون مجھے جان سکتا ہے؟ اور میرے خالق سے زیادہ کون میری بھلائی چاہ سکتا ہے؟

پس میں اپنے رب کی اطاعت کی کوشش کرتی ہوں، اور اس کی فرمانبرداری میں ہی اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق اس کی مخلوق سے معاملہ رکھتی ہوں۔

جسے میرا رب ناپسند کرتا ہے، وہ مجھے بھی ناپسند ہے، اور جسے وہ پسند کرتا ہے، وہ مجھے بھی محبوب ہے۔

جسے اس نے مجھ پر نگران مقرر کیا، میں نے اس کی نگرانی کو قبول کیا، کیونکہ یہ میرے رب کا فیصلہ ہے، اور اس کے فیصلے کے سامنے میں سرِ تسلیم خم کرتی ہوں۔

مجھے حکم دیا گیا کہ محارم کے سوا ہر ایک سے اپنی زینت اور اپنی ذات کی حفاظت کروں، تو میں نے اس حکم کو قبول کیا، کیونکہ میرا رب اپنی مخلوق کو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون میرے لیے خیر کا باعث ہے اور کن سے فاصلہ رکھنا میری حفاظت ہے۔

مجھے ہدایت دی گئی کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلوں، تو میں نے اس پر بھی سر جھکا دیا، کیونکہ میرا کریم رب میری عزت، وقار اور حفاظت چاہتا ہے۔

مجھے حکم ہوا کہ محرم کے بغیر سفر نہ کروں، تو میں نے اس شاہی فرمان کو بھی قبول کیا، کیونکہ میرا رب چاہتا ہے کہ جب میں سفر کروں تو میرے محافظ میرے ساتھ ہوں، اور میں امن و اطمینان کے ساتھ اپنے راستے پر چلوں۔

اور میں اپنے رب کے احکام کو صرف اس وقت قبول نہیں کرتی جب ان کی حکمت مجھے سمجھ آجائے، بلکہ اس وقت بھی سرِ تسلیم خم کرتی ہوں جب میری عقل ان کی تمام حکمتوں کا احاطہ نہ کر سکے، کیونکہ مجھے اپنے رب کی حکمت پر اپنی سمجھ سے زیادہ بھروسہ ہے۔

مجھے بتایا گیا کہ خاوند کی اطاعت میں میری جنت پوشیدہ ہے، تو میں اس اطاعت کو اپنے رب کی رضا کی نیت سے اختیار کرتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ اگر میرے رب نے مجھے کسی ذمہ داری کا پابند بنایا ہے تو اس میں میرے لیے خیر ہی خیر ہے۔ جب میں اپنے رب کے حکم کے مطابق زندگی گزارتی ہوں تو اس کی رحمت اور اس کی جنت کی امید بھی رکھتی ہوں۔

اور جس رب نے مجھ پر کچھ ذمہ داریاں رکھی ہیں، اسی نے میرے لیے حقوق بھی مقرر فرمائے ہیں۔ میرے نفقے، میری عزت، میرے تحفظ اور میرے ساتھ حسنِ معاشرت کو دوسروں پر واجب قرار دیا ہے۔ میرا دین صرف فرائض نہیں دیتا، بلکہ میرے حقوق کی حفاظت بھی کرتا ہے۔

پھر میرے رب نے میری عزت و عظمت کو اور بڑھا دیا۔

ماں کی صورت مجھے ایسا مقام عطا فرمایا کہ میری خدمت اور میرے حقوق کو غیر معمولی اہمیت دی۔۔۔

بیٹی اور بہن کی صورت میری بہترین تربیت اور کفالت کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارتیں رکھ دیں۔۔۔

اور بیوی کی صورت مجھے سکون، محبت اور رحمت کا ذریعہ بنایا، اور میرے ساتھ حسنِ سلوک کو بہترین اخلاق میں شمار فرمایا۔۔۔

جب میں غور کرتی ہوں تو دیکھتی ہوں کہ میرے رب نے میری زندگی میں چند قریبی مردوں "باپ، بھائی، خاوند اور بیٹے" کو میری حفاظت اور معاونت کی ذمہ داری عطا فرمائی۔

میں کہیں جانا چاہوں تو وہ میرے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

مجھے کسی چیز کی ضرورت ہو تو وہ اسے پورا کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں۔

وہ اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کے لیے دن رات جدوجہد کرتے ہیں تاکہ میرے لیے آسائش، تحفظ اور سہولت کا سامان مہیا کر سکیں۔

لیکن میری پہچان صرف یہ نہیں کہ کوئی میری حفاظت کرتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ میں اپنے رب کی ایک ذمہ دار بندی ہوں۔ میں علم حاصل کرتی ہوں، اپنے نفس کی اصلاح کرتی ہوں، خیر کو پھیلاتی ہوں، نسلوں کی تربیت کرتی ہوں اور اپنے حصے کی بھلائی اس دنیا میں چھوڑنے کی کوشش کرتی ہوں۔

میرے رب نے مجھے تنہا نہیں چھوڑا، بلکہ اپنی کتاب کی صورت ہدایت عطا فرمائی ہے۔ جب راستے دھندلے ہونے لگتے ہیں، جب دل الجھنوں میں گھر جاتا ہے، تب میں قرآن کی روشنی میں اپنا راستہ تلاش کرتی ہوں، اور میرے رب کا کلام میری ڈھارس بندھاتا ہے ،مجھے اندھیروں میں رستہ سجھاتا ہے۔

اور میری بندگی صرف احکام کی اطاعت تک محدود نہیں۔ جب میرے رب کی تقدیر میری خواہشات کے مطابق نہ ہو، تب بھی میں اسی کی بندی ہوں۔ جب دعائیں تاخیر سے قبول ہوں، جب راستے مشکل ہوں، جب دل کسی آزمائش سے گزر رہا ہو، تب بھی میں جانتی ہوں کہ میرا رب مجھ پر مجھ سے زیادہ مہربان ہے۔ میری بندگی صرف آسانیوں میں نہیں، بلکہ صبر، رضا اور توکل کے لمحات میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔

میں اس دنیا میں ہمیشہ رہنے کے لیے نہیں آئی۔ میرا اصل گھر جنت ہے، اور میری زندگی کا ہر دن مجھے اس منزل کے قریب یا دور کر رہا ہے۔ اسی لیے میں اپنے فیصلوں کو صرف دنیاوی فائدے سے نہیں، بلکہ آخرت کے انجام سے بھی پرکھتی ہوں۔

میری عزت میرے لباس، عمر، رشتے یا دنیاوی مقام سے نہیں، بلکہ میرے رب کے نزدیک میرے تقویٰ سے ہے۔ میری اصل قدر اس نسبت میں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی بندی ہوں۔

پس میں اپنے رب کے ان احکام کو بوجھ نہیں سمجھتی، بلکہ اس حکمت، رحمت اور حفاظت کا حصہ سمجھتی ہوں جو اس نے میرے لیے پسند فرمائی ہے۔

میں زمانے کے نعروں سے اپنی قدر نہیں ناپتی، نہ لوگوں کی تعریف سے اپنی شناخت تلاش کرتی ہوں۔

اگر دنیا مجھے کمزور سمجھے تو یہ اس کی نظر کا قصور ہے۔

میں اس رب کی بندی ہوں جس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوتے، جس کی رحمت ہر شے پر محیط ہے، اور جس کی مدد ایک کمزور کو بھی مضبوط بنا دیتی ہے۔

میری سب سے بڑی شناخت، میری سب سے بڑی عزت، اور میری سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ میں أمةُ الله ہوں۔

میرا رب میرا خالق ہے، میرا رب میرا محافظ ہے، میرا رب ہی میری منزل ہے۔

اور مجھے اس نسبت پر فخر ہے۔

الحمد لله على نعمة الإسلام، والحمد لله أن جعلني أمةً له.

والسلام

آمنہ چاہل

Life Skills Trainer, Islamic Life Coach

اصل تحریر بلاگ پر پڑھیں تمام تحریریں

مزید تحریریں

بڑھتے ہوئے جنسی جرائم: اسباب، احتیاط اور ہماری ذمہ داریاں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جب بھی کسی معصوم بچے یا بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کی خبر سامنے آتی ہے تو پورا معاشرہ غم و غصے میں ڈوب جاتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مذمت کے پیغامات، مجرموں کے لیے سخت سزاؤں کے مطالبات اور چند روز تک جاری رہنے والی بحثیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف مجرم کو سزا دینا ہی کافی ہے؟

مضمون پڑھیں

کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کیا بیٹیاں واقعی ساری زندگی لیتی رہتی ہیں؟ کل ایک گفتگو کے دوران امی سے بات ہو رہی تھی کہ والد یا بھائیوں پر بیٹی کے جہیز کا بوجھ شریعت نے نہیں رکھا تو یہ ہونا بھی نہیں چاہیے ۔ خیر، ایک طویل بحث کے اختتام

مضمون پڑھیں
میں آزاد ہوں

میں آزاد ہوں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم آج آزادی کے نام پر بہت سے نعرے بلند کیے جاتے ہیں۔۔۔ کسی کے نزدیک آزادی ہر حد کو توڑ دینے کا نام ہے۔۔۔ تو کسی کے نزدیک خواہشات کی بے لگام پیروی کا۔۔۔ اور کسی کے نزدیک ہر بندھن سے بے نیاز ہو جانے کا۔۔۔ مگر میں نے آزادی کو ایک

مضمون پڑھیں